دبئیمتحدہ عرب امارات

دبئی میں ورکرز کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ لگ سکتا ہے

دبئی میں ورکرز کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے

دبئی (گلف انسائڈ اردو) دبئی میں ورکرز کو علاج کی سہولت فراہم کرنا قفیل یا سپانسر کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو قانون کے تحت 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

وفاقی قانون نمبر (8) 1980 ریگولیٹنگ ایمپلائمنٹ ریلیشن متحدہ عرب امارات کے تحت یہ سپانسر یا کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ ورکرز کے علاج معالجے کے لئے معیاری سہولیات فراہم کرے ۔

ہیلتھ انشورنس لاء کے آرٹیکل 10 کے مطابق ورکرز کو انشورنس کارڈ جاری کرنا کمپنی یا سپانسر کی ذمہ داری ہے ۔ کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ ورکرز کی علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرے ناکہ یہ رقوم ورکرز سے وصول کی جائے ۔ ورکرز کی انشورنس کارڈز کی معیاد ویزہ کے ٹائم فریم کے مطابق ہونا چاہئے ۔قانون کے مطابق کسی بھی حادثے کی صورت میں تمام اخراجات کمپنی کو برداشت کرنا ہونگے ۔

ایمپلائمنٹ لاء 96 کے تحت ورکرز کے علاج کے اخراجات کمپنی کو برداشت کرنا ہونگے ۔دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے آرٹیکل 23 کہتا ہے کہ ورکرز کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت نا کرنے پر کمپنی کے خلاف کاروائی ممکن ہے جس میں جرمانے کا اطلاق عمل میں لایا جائے گا۔

جرمانے 5 سو درہم سے شروع ہوکر ایک لاکھ پچاس ہزار درہم تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ مسلسل خلاف ورزی پر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button