ابو ظہبیمتحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں قید سینکڑوں پاکستانی آزاد

ابو ظہبی (گلف انسائڈ اردو) متحدہ عرب امارات کی کئی جیلوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی قید ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو بینکوں کے قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے  پھنس جاتے ہیں اور پھر انہیں عدالتوں کے  حکم پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم قرضے کے باعث جیلوں میں بند سینکڑوں پاکستانیوں کے لیے اچھی خبر آ گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے عید الاضحی کی آمد پر مملکت میں قرضوں کے باعث قید 515 افراد کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ان رہا کیے جانے والے قیدیوں کے ذمہ واجب الادا رقم متحدہ عرب امارات کے صدر اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ جن قیدیوں کو رہائی دی گئی ہے ان میں اماراتی شہریوں سمیت بڑیتعداد میں غیر مْلکی باشندے بھی شامل ہیں۔ یہ قیدی قرضوں کی عدم ادائیگی اور دیگر معمولی جرائم میں سزا کاٹ رہے تھے۔

اماراتی فرمانروا اور دیگر ریاستوں کے سربراہان کی جانب سے ہر سال رمضان المبارک اورعید الاضحی کے موقع پر ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں، جن میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ شیخ محمد بن راشد جو کے دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر آزم بھی ہیں ان کی جانب سے ہر سال رمضان کے آغاز سے قبل دبئی کی جیلوں سے معمولی جرائم میں قید کئی افراد کی رہائی کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی رمضان المبارک کی آمد پر مختلف ممالک کے 874 قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔یہ قیدی بھی قرضوں کی عدم ادائیگی اور دیگر معمولی جرائم میں سزا کاٹ رہے تھے۔

دبئی کے میڈیا آفس  نے بدھ کو ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں ان قیدیوں کی رہائی کی اطلاع دی ہے۔اس کے علاوہ اماراتی ریاست راس الخیمہ کے حکمران شیخ سعود بن صقر القاسمی نے بھی رمضان کے موقع پر 584 مقامی اور تارکین وطن قیدیوں کی رہائی کا حکم دِیا تھا۔  جب کہ فجیرہ کے حاکم شیخ حمد بن محمد الشرقی کی جانب سے بھی 72 قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس طرح متحدہ عرب امارات کی ریاستوں کی جانب سے تین ہزارسے زائد قیدیوں کو رمضان میں رہائی کے باعث عید الفطر کی خوشیاں اپنے گھر والوں کے ساتھ منانے کا موقع مِل گیا تھا۔ تمام ریاستوں کی پولیس کی جانب سے سزائیں معاف کیے جانے والے قیدیوں کی فوری طور پر رہائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

ان میں کئی کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ رمضان اورعید الاضحی سے قبل متحدہ عرب امارات میں شامل تمام ریاستوں میں قیدیوں کی رہائی ایک روایتی عمل ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button